ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قانون کا غلط استعمال کر رہی ہے بھاجپا کی ریاستی سرکار : مایا وتی 

قانون کا غلط استعمال کر رہی ہے بھاجپا کی ریاستی سرکار : مایا وتی 

Fri, 06 Oct 2017 21:27:54    S.O. News Service

لکھنؤ ،6؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )بسپا سپریمو مایاوتی نے آج بھاجپاپر الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومتیں عوامی اشتعال کو دبانے کے لئے قانون کا غیر غلط استعمال کر رہی ہے ،مایا وتی نے ایک بیان میں کہا کہ' وزیراعظم نریندر مودی حکومت کی غریب ، کسان اورمبینہ غلط پالیسیوں کے خلاف پیدا ہورہے عوامی اشتعال کو بی جے پی کی سرکاریں قانون کا غلط استعمال کرکے اسے دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ لوگوں پر مختلف قسم کے دفعات قائم کرکے حکومتی شکنجہ کسنے کی سیاسی سازش میں پیش پیش ہے جو اول تو یہ کہ یہ مکمل ساسی مفاد سے کا عکاس ہے بعد ازیں یہ جمہوریت کے قتل عمد کے مترادف بھی ہے ۔ مایاوتی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بھاجپا کے زیر اثر ریاستوں بالخصوص اتر پردیش ،گجرات ،مدھیہ پردیش ،جھارکھنڈ ،راجستھان وغیرہ ریاستوں میں وزیر اعظم اوروزیراعلیٰ کے متعلق تبصرہ کرنے کے نادیدہ جرم کے عوض مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے سلاخوں کے پیچھے کئے جانے کی نئی سیاسی روایت چل پڑی ہے ،جوکہ جمہوریت کا گلا گھونٹنے جیسا ہے ،جو بھاجپا کی تاناشاہی اور آمریت کو واضح کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی بھارت کے مشہور اداکار پرکاش راج مقدمہ پر مقدمہ اورشاملی ( یوپی) میں دلت نوجوان کی گرفتاری مبینہ آمریت کا واضح عندیہ ہے کہ بھاجپا کی ریاستی حکومتیں بے لگام ہوتی جا رہی ہیں ۔ مایا وتی نے اپنے سخت تیور ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے آل انڈیا ریڈیو اور ڈی ڈی ون کو ’’ ہیز مودی وائس ‘‘ بناکر اس کی اہمیت اور وقار کو گھٹا دیا ہے ،جب کہ نجی ٹی وی چینلز کو اپنے تسلط میں رکھ کر اس کی آزادی بھی چھین لی ہے ۔ سابق وزیر اعلی مایا وتی نے الزام لگاتے ہوئے کہا : یہاں آزادی اظہار پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے حتی کہ غیر جانبدار صحافی ،رائٹر اور ادبا حضرات کو الگ الگ طریقہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ مایاوتی نے مزید کہا: مجموعی طور پر یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔اس تناظر میں عدلیہ کی مداخلت لازمی محسوس ہو رہی ہے تاکہ بھاجپا کے جانبدارانہ تسلط پر قدغن لگائی جا سکے ۔ مایا وتی نے اس قبیل کے کئی الزامات بھاجپا پر لگائے جس سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ وہ دلت اور ان کے حامیوں پر بھاجپا رضاکار اور پولس کی مبینہ زیادتی سے نالاں ہیں۔ انہوں نے بھاجپا کے مبینہ کاروائی اور عمل کے تناظر میں کہا کہ ملک میں ایک عجیب طرح کی افراتفری دیکھنے کومل رہی ہے جو سماج اور ملک دونوں کیلئے انتہائی سنگین ہے حتی کہ بھاجپائی کارکنان خود کو قانون و انتظامیہ سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں ۔مایاوتی نے مزید کہا کہ جرائم پر قانون کی گرفت اس قدرڈھیلی پڑ چکی ہے کہ گورنر کو بھی اپنی ناراضگی اعلانیہ اظہار پر مجبور ہو نا پڑتا ہے ۔


Share: